نہیں بھولے
Poet: UA By: UA, Lahoreآنکھوں سے آنکھوں کی پہلی ملاقات نہیں بھولے
ہم بھول گئے ہر بات مگر وہ بات نہیں بھولے
جب دیدہ بینا نے بینائی کا مطلب جان لیا
اس پل کے اک درشن کی وہ سوغات نہیں بھولے
چھوٹا اپنا ساتھ مگر وہ ساتھ نہیں بھولے
جسے دل نے ہر دم یاد رکھا وہ بات نہیں بھولے
اپنی باتوں کی باتیں ان باتوں کی وہ یادیں
وہ سوئے سوئے دن وہ جاگی رات نہیں بھولے
دھوپ سلگتے آنگن میں وہ ابر کی آمد کا منظر
تپتے صحرا میں کیسے ہوئی برسات نہیں بھولے
عظمٰی جو خانہ دل میں آرام سے آ کر بیٹھ گئی
شیشے کے آنگن میں اتری وہ گھات نہیں بھولے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







