وعدہ کرنا بھی نہِیں تُجھ کو نِبھانا بھی نہِیں
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہوعدہ کرنا بھی نہِیں تُجھ کو نِبھانا بھی نہِیں
سب ہے معلُوم تُُجھے لوٹ کے آنا بھی نہِیں
رہنے دیتا ہی نہِیں تُو جو درُونِ دِل اب
اور مِرا دِل کے سِوا کوئی ٹِھکانہ بھی نہِیں
کِتنے جُگنُو تھے، مِرے دوست ہُوئے گرد آلُود
اب مُجھے دِیپ محبّت کا جلانا بھی نہِیں
تِتلِیاں لب پہ مِرے کیسی یہ مُسکان کی ہیں
کھولنا تُجھ پہ نہِیں بھید، چُھپانا بھی نہِیں
اُس کی چُپ دِل کو مگر چِیر کے رکھ دیتی ہے
بات کرنے کا مِرے پاس بہانہ بھی نہِیں
میں نے اِک عُمر اِسی میں ہی لگا دی یارو
"اب تو یک طرفہ محبّت کا زمانہ بھی نہِیں"
یہ جو منسُوب ہے اِک درد کہانی مُجھ سے
سچ تو یہ ہے کہ کوئی جُھوٹا فسانہ بھی نہِیں
میں نے ہر بار محبّت کا بھرم رکھا ہے
اب کے رُوٹھا تو تِرے شہر پِھر آنا بھی نہِیں
اب کہِیں اور رشِؔید اپنا ٹِھکانہ کر لے
مجُھ کو اب درد کو سِینے سے لگانا بھی نہِیں
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






