وہ اجنبی کیونکر شناسا لگتا ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadوہ اجنبی کیونکر شناسا لگتا ہے
اِس دنیا سے ماورا سا لگتا ہے
جب کبھی آئینہ دیکھتا ہوں
اپنا چہرا ہی بے وفا سا لگتا ہے
زندگی کی طرح مقدر میرا
نجانے کیوں اُلجھاسا لگتا ہے
مجھ کو تو خود سے گِےل ہیں ہی
تُو بھی مجھ سے خفا سا لگتا ہے
میرے ہم نشیں تیرے بغیر
دل دھڑکنا بھی سزا سا لگتا ہے
یہ شخص جو تنہا ہے سرِ محفل
عجب نہیں کہ رضا سا لگتا ہے
دیکھنے میں اشک ہے ایک
جھیلنے میں دریا سا لگتاہے
مجھے دیکھ کر پستی میں پڑا، وہ
حیرت ہے ،حیرت زدہ سا لگتا ہے
رہتا ہے اس لیے وہ دور شائد
قریب آنا اُسے بُرا سا لگتا ہے
سرِ راہ جو راکھ دیکھی اُس نے
کہنے لگا کوئی آشیانہ سا لگتا ہے
سانسوںمیں تسلسل نہیں پہلے سا
زندگی کا سفر باقی زرا سا لگتا ہے
آج پھر تھاما ہے ہاتھ اُس نے
آج پھر دے گا دلاسا لگتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






