وہ جو کہتا تھا کہ آبرو تیری۔۔۔
Poet: roop zahra By: roop zahra, kirachiوہ جو کہتا تھا کہ آبرو تیری مجھے جان سے ذیادا عزیز ہے
سر بازار اب اچھالتا ہے وہ قصے میری رسوائی کے
وہ تو معصوم تھا میری محبتوں کی طرح لوگو
نہ جانے کس نے سکھائے اسے انداز بے وفائی کے
میری ذات سے آج کوئی مطلب نہیں اسے
کرتا تھا جو دعوے کبھی مجھ سع ہمنوائی کے
میں نے اپنی آنکھیں ہی اس کی دہلیز پا دفنا دیں
تاکہ اسے شکوے نہ رہیں مجھ سے کم نگاہی کے
تاریکی ہجر کے سوا کچھ آتا نہیں نظر
ساتھ اپنے لے گیا وہ سبھی رنگ میری بینائی کے
خوف سے جنکے راتوں کی نیندیں ہوئی برباد میری
ہائے آخر سچ ہوے وہ خدشے تیری جدائی کے
میں جا رہی ہوں چھوڑ کر یہ بے حسوں کی دنیا روپ
اسے کہنا شوق سے منائے جشن اب میری جگ ہنسائی کے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






