وہ روٹھ گیا اس ادا سے
Poet: رعنا کنول By: Raana Kanwal, Islamabadرات کی گہری سیاہی میں
تنہائی کی انگہرائی میں
چاند کی پرچھائی میں
تاروں کی ٹمٹماہٹ میں
وہ روٹھ گیا اس ادا سے
بہت دور نکل گیا اس ادا سے
بادل کی گھن گرج میں
بجلی کی چمک دھمک میں
بارش کے شور و گل میں
آندھی کے بدلتے رخ میں
وہ روٹھ گیا اس ادا سے
بہت دور نکل گیا اس ادا سے
روتے دل کی پکاروں میں
خلش کے انگاروں میں
سانسوں کی ڈوروں میں
ہچکی کے شوروں میں
وہ روٹھ گیا اس ادا سے
بہت دور نکل گیا اس ادا سے
زندگی کے نشیب و فراز می
آزمائش کے کٹھن امتحان میں
بگڑے حالات کے طوفاں میں
سکوں کی تلاش میں
وہ روٹھ گیا اس ادا سے
بہت دور نکل گیا اس ادا سے
یادوں کے خوبصورت پلوں میں
یاد کیا ہر اک پل پل میں
آوازیں میری کھو گیں ان پلوں میں
جواب کوئی نہ آیا ان پلوں میں
وہ روٹھ گیا اس ادا سے
بہت دور نکل گیا اس ادا سے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






