ٹوٹا ہوا دل کیوں نہ گبھرائے
Poet: Mubeen By: Mubeen, Islamabadٹوٹا ہوا دل کیوں نہ گبھرائے
شکستہ دیواروں کے مکان گر جاتے ہیں
ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ
اکثر جھونکوں سے بجھ جاتے ہیں
دیکھ لو ٹھہر جائے گا آنکھوں میں منظر
ورنہ خاک میں چہرے خاک ہو جاتے ہیں
گل و رخسار کی باتیں کرتے ہیں شاعر
عاشق تو کانٹوں میں الجھ جاتے ہیں
جذب ہوتے ہیں جب خاک میں آنسو
پھولوں کے چہرے غمناک ہو جاتے ہیں
ضبط کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے
بادل امڈ آئیں تو برس جاتے ہیں
شہر بے پرواہ سے اب کوئی یارا نہیں
رشتے لوگوں کی طرح پاس سے گزر جاتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






