ٹوٹنا تو کوئی بات نہیں سو بار ٹوٹے ہیں
Poet: Zahida Ali By: Zahida Ali, pakpattan sharifٹوٹنا تو کوئی بات نہیں سو بار ٹوٹے ہیں
بکھر بکھر کر سمٹے ہیں سمٹ سمٹ کر بکھرے ہیں
مسکراتی آنکھوں سے کبھی تم پوچھنا کہ
کتنے اندیکھے سمندر دل کے اندر گرتے ہیں
پتھروں کی رہگزر پہ چلنے والے قدموں سے
منزلیں اس راہ کی سفر کی داستاں پوچھتے ہیں
گزرا ہوا زمانہ پھر لوٹ آیا نہیں کرتا
پھر کیوں وہ بھولی بسری ہوئی باتیں یاد کرتے ہیں
بارش ہوئی تو ساتھ ہم بھی رو لیں گے
بادل بھی برس جانے کو بہانے چاہتے ہیں
اتنی مہارت سے کرتے ہیں وہ قتل سرراہ ہجوم
نہ دامن پہ کوئی داغ نہ ہاتھوں پہچانے جاتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







