ٹوٹیں ہوئ روحوں کو سنبھالا نہیں کرتے
Poet: ماہم جاوید By: Maham jawaid, Karachiٹوٹیں ہوئ روحوں کو سنبھالا نہیں کرتے
ہر بات کو محفل میں اچھالا نہیں کرتے
رکھتے ہیں وہ شوقِ غمِ تاریکیوں کو جو
وہ اپنے ہی کمروں میں اجالا نہیں کرتے
پھرتے سرے بازار ہیں ہم سے جڑے کچھ لوگ
ملتے ہیں تو ایسے کہ پکارا نہیں کرتے
اور اب کی بار تو یہ ستم اور بڑھ گیا
کہ ہنس کے مل لیے وہ کنارہ نہیں کرتے
یہ عجلتوں کو ملنا ہمیں راس نہ آیا
وہ ساتھ تھا میرے مگر وہ پاس نہ آیا
ہم نے بھی راہ نکال لی کہ دور ہولیے
ہم سے بہت سے لوگ گزارہ نہیں کرتے
اب کہ جو ملو گے تو میری آنکھ دیکھنا
اس آنکھ کے آنسو کا شرارہ نہیں کرتے
ہم تھک گئے ہاں تھک گئے اس انتظار میں
بوجھل ہوۓ قدموں سے یہاں بیٹھ گئے ہیں
شاید کہ اب یہ جاۓ پناہ راس آگئ
ہاں اب جو انتظار تمھارا نہیں کرتے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






