ٹُوٹا پھُوٹا ہوں، مجھ کو رہنے دو
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالٹُوٹا پھُوٹا ہوں، مجھ کو رہنے دو
ہاں، چٹختا ہوں، مجھ کو رہنے دو
کرتے کیوں ہو عدو سی تدبیریں
گر میں بگڑا ہوں، مجھ کو رہنے دو
پیچ زلفوں کے چھوڑ دو کل پر
اندر الجھا ہوں، مجھ کو رہنے دو
اے پشیماں اُمیدِ نُو تجھ کو
کتنا ہارا ہوں، مجھ کو رہنے دو
دوستوں کے ہجوم میں ہو کر
میں اکیلا ہوں، مجھ کو رہنے دو
دونوں عالم کی بزمِ حیرت میں
سویا جاگا ہوں، مجھ کو رہنے دو
میں بنا ہی کسی تصوّر کے
میں جو کھویا ہوں، مجھ کو رہنے دو
آبِ گل میں ملائے دو بوندیں
زہر پیتا ہوں، مجھ کو رہنے دو
تیری یادوں کو جا بجا لے کر
خوار پھرتا ہوں، مجھ کو رہنے دو
اپنی منزل سے اپنی راہوں میں
تنگ و تنہا ہوں، مجھ کو رہنے دو
سر رکھے، سودۂ جنوں بھی رکھے
خالی لگتا ہوں، مجھ کو رہنے دو
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






