پتہ ساحلوں کا بتاتے بتاتے
Poet: توقیر اعجاز دیپک By: شاہ عالم, Multanپتہ ساحلوں کا بتاتے بتاتے
میں ڈوبا کسی کو بچاتے بچاتے
دکھاؤ نہ استادیاں اس کو صاحب
کٹی عمر جس کی سکھاتے سکھاتے
وہ اب چھینتے ہیں نوالے ہمارے
جِنھیں اپنے ہاتھوں سے ہم تھے کھلاتے
وہ گم نامیوں میں کہیں کھو گیا ہے
کبھی لوگ جس کے طَبَل تھے بجاتے
میرا نام بھی وہ لبوں پر نہ لائے
جو شام و سحر تھے مرے گیت گاتے
وہ اب ہم سے نا آشنا ہو گئے ہیں
جو پلکوں پہ اپنی ہمیں تھے بٹھاتے
جھڑی ایک لگ جاتی ہے آنسوؤں کی
ترے خط ہمیشہ جلاتے جلاتے
اسے پاؤں پڑ کے منا لیتا میں بھی
اگر دیکھتا مڑ کے وہ جاتے جاتے
جسے روٹھنا ہے وہ اب روٹھ جائے
کہ میں تھک گیا ہوں مناتے مناتے
لگا بیٹھا نِسیان کا روگ دیپک
مسیحا کو اپنے بھلاتے بھلاتے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






