پنجابی (جہیڑے یار گِلاں دا نہال بُلھے)
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaاسی تاں کر ترے نال پیار بیٹھے
جنڈ عشق دی صولی چھاڑ بیٹھے
کھیل کے پیار دی بازی کلیاں
اج تائی سب کجھ ہار بیٹھے
کومل پُھلاں ورگے ارمان سارے
ترے ہجر دی اگ وچ ساڑ بیٹھے
جا بے دردے تُوں سانوں بُھل گئی
ترے لئے اسی دنیا ساری وسار بیٹھے
چھنگے پیار دے تُوں سانوں انعام دِتے
بڑے الزام تُوں سانوں سریام دِتے
دھوکے باز، بے وفا اے تُوں سانوں نام دِتے
کرکے اکٹھے دُکھ سارے جہان دے
گلاں دے نہال نُوں تُوں صبح شام دِتے
گل پنچی پیار دا سینے وچ ہی مار بیٹھے
جہیڑے اپنے کیتے اعمال بُلھے
جہیڑے یار گِلاں دا نہال بُلھے
اسی وی اُوہناں دا سب ساڑ بیٹھے
خط وچ چناب دے ہاڑ بیٹھے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






