پڑ گئی کس امتحان میں ،شاہین یہ کیسا ھے سفر ؟
Poet: Shaheen Mughal By: Shaheen Mughal, gjn جنوں کی راہ میں نکلی ہوں
انجام سے بے خبر
راستہ بھی پر خطر
گہری کھائیاں
دہشت کی ہر
سمت پرچھائیاں
کالی راتیں
ادھورے قصے
ادھوری باتیں
گھپ اندھیرا
جگنو نہ سویرا
نہ چھاؤں الفت کی
نہ کوئی محبوب میرا
یہ دل گھائل ، گھائل
پھر بھی امید کا قائل
روپ نہ کوئی دھوپ
ہر طرف گہرا سکوت
دکھائی دیتا لمبا سفر
نہیں کوئی ہمدم
نہ سایہ نہ ہی
کوئی شجر
جل رہی ہوں
ہر لمحہ ہر پہر
نہیں پتہ یہ کونسا
ھے نگر ؟
چلنے لگی کس ڈگر
آ گئی ہوں کس
جہان میں۔
پڑ گئی ہوں کس
امتحان میں۔
شاہین!کیسا ہے یہ سفر
کرنا پڑتا بس صبر،بس صبر
اے دل نہ کسی آزمائش
سے ڈر ۔
نہ سہم ، بن بہادر،
جان لو یہ کونسی ہے راہ
حاصل کرنی ہےاک
پتھر دل کی چاہ
یہ دیوانگی کی ہے راہ
ہاں
یہ دیوانگی کی ہے راہ
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






