پھر سے دسمبر
Poet: By: Hukhan, karachiناں کوئی خواب ناں ہی کوئی دعا
خالی سی ویران آنکھیں خالی سے ہاتھ
آخر کو ہم جائیں کہاں
نہ کوئی منزل نہ کوئی رستہ
نہ ہمسفر نہ ہی کوئی ہمنوا
جھولی ہے خالی خاک ہے گریبان
مڑ جاتی ہے راہ
ہم بھی مڑ جاتے ہیں وہاں
نہ ہی منزل نہ ہی نظر آتا ہے کوئی نشاں
من ہوا بنجر
قلم ہوا خواں
سوچ بنی ہے قبر
جارہا ہے صبر
نہ کوئی دوست نہ دلبر
پھر سے آنے لگا ہے دسمبر
وحشتوں کی آئی گی پھر سے خبر
میٹھی سی سردی ڈھائے گی قہر
خالی سا دل سونی سی نظر
اداس سی شامیں اور کوئی نہیں ڈگر
الجھے الجھے سے چہرے
نئے سے پیرہن
سرد سی ہوائیں گرم سی شال
بکھرا بکھرا سا حسن
کندھے پر بکھرا زلف کا جال
جھیل سی آنکھیں پہرا پلکوں کا
اس پر ذرا آوارہ سا کاجل
ٹھنڈا ٹھنڈا سا دسمبر حسن کا بادل
خان موسم بدل رہا ہے
کمزور ہے آشیانہ
راہ لے اب بدل
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






