پہلے خود سے جدا ہوا ہوں میں
Poet: جنید عطاری By: جنید عطاری, چکوالپہلے خود سے جدا ہوا ہوں میں
پھر کہیں تجھ سے آ ملا ہوں میں
اب مجھے پوچھنے کو مت آنا
اپنے اندر کہیں گیا ہوں میں
ناگہاں خود سے ڈرتا رہتا ہوں
گویا اپنی کوئی بلا ہوں میں
خواب تو جانے کب اوجھل ہیں
صرف سونے کو سو رہا ہوں میں
جانیے کون ہو وہ کیسا ہو
جس سے اب تک نہیں ملا ہوں میں
چھین مت وصل کی ولایت کو
تیرے در سے نہیں پِھرا ہوں میں
کون ہے یہ جو آ گیا مجھ میں
اور کس سے گزر چکا ہوں میں
کھیل ہے بے نیاز ہو جانا؟
گویا اپنے تئیں خدا ہوں میں
گَھٹ رہا ہوں فراق میں ہر پل
جانیے کس قدر بچا ہوں میں
ہیں کئی صورتیں مرے اندر
جانے کس سے بہل رہا ہوں میں
اتنی فرصت؟ جنیدؔ عطاری
شاید اس کو بھلا چکا ہوں میں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






