پہچان کے نشان ہزاروں طرح کے ہیں
Poet: Arif Hussain Arif By: Qasim Raza, Faisalabadپہچان کے نشان ہزاروں طرح کے ہیں
دنیا میں خاندان ہزاروں طرح کے ہیں
کس دوست کی وفا پہ کریں اعتبار ہم
ہیں جن کے درمیان ہزاروں طرح کے ہیں
اس معرکہ عشق میں ہو کون سرخرو
اس میں تو امتحان ہزاروں طرح کے ہیں
صرف ایک وہ نہیں ہے تو جس کا مکین ہے
ویسے یہاں مکان ہزاروں طرح کے ہیں
مانیں گے جب ملے گی ہمیں چھاؤں دہر کی
سنتا ہے سائبان ہزاروں طرح کے ہیں
پوچھا یہ اس نے رنگ ہیں کتنے، خلوص کے
میں نے کہا کہ جان ! ہزاروں طرح کے ہیں
وابستہ سب سے کوئی کہانی ضرور ہے
اس جسم پر نشان ہزاروں طرح کے ہیں
شاید وہ بے وفا ہے کہ مجبور دوستوں
دل میں ابھی گمان ہزاروں طرح کے ہیں
بولے حریمِ ناز سے احباب یک زبان
عارف پہ ہم کو مان ہزاروں طرح کے ہیں
عارف حسین عارف - اندھیرے رقص کرتے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






