پیار میں کسی سے دھوکا نہ کرے کوئی
Poet: اسد رضا By: ASAD, MPK پیار میں کسی سے دھوکا نہ کرے کوئی
چاھے وفا کے بدلے وفا نہ کرے کوئی
کوئی الگ کرے خود سے جدا کرے لیکں !
تا عمر بچھڑنے کی مقرر سزا نہ کرے کوئی۔۔۔
بس ایک نظر دیکھ لے کوئی پیار سے۔۔۔
خواہ دلے بیمار کو اچھا نہ کرے کوئی۔۔۔
مانا کہ ہم غلط ہیں اور وہ یار سہی۔۔۔
بہرحال گذارش ھے ان دیکھا نہ کرے کوئی۔۔۔
کوئی کسی کا عمر بھر ساتھ نہیں دیتا۔۔۔
تا مرگ توڑ نبھانے کا وعدہ نہ کرے کوئی۔۔
اے شمع الفت اس میں پروانے کا کیا قصور؟
گر تجھ پر مر مٹنے کا ارادہ نہ کرے کوئی۔۔۔
کسی کے آگے سر جھکا نا مجازن کفر ھے۔۔۔
غلطی سے بھی واعظ ! سجدہ نہ کرے کوئی۔۔۔
ھے خود غرض جہان اور ہیں لوگ مطلبی۔۔۔
معاملات دل میں کسی پر بھوسہ نہ کرے کوئی۔
عرض سمجھے کہ التجا اسد بس اتنی گذارش ھے۔۔۔
کبھی کسی سے پیار میں دھوکا نہ کرے کوئی۔۔۔
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






