چاہتوں کا دیا
Poet: Taskeen Sehar By: Taskeen Sehar, Karachiاس بھاگتی دوڑتی زندگی میں کس طرح؟
اپنی چاہتوں کا دیا بجھ گیا
جو خواب تھے وہ سارے بکھر گئے
جو اپنے تھے وہ بھی ہم سے روٹھ گئے
کچھ ہم بھی تھے حساس بہت
کچھ اپنے مقدر بھی پھوٹ گئے
کچھ ہم بھی تھے سچ کہنے کے عادی
کچھ انہیں بھی تھی سچ سے نفرت بہت
پر ہم سے بھی بولے نا جھوٹ گئے
اس بھاگتی دوڑتی زندگی میں سچ کہنے کی ہم کو
ملی کچھ ایسی سزا تھا جو کبھی ہمارے درمیاں
چاہتوں کا دیا وہ چاہتوں کا دیا بجھ گیا
کیوں کہ؟
میرے اور تمہارے درمیاں کوئی تو بات ایسی تھی
وہ جو اک بات تھی جاناں جذبہ دل میں
ہماری سچائی کی کمی تھی اس لیے
اپنے سب سپنوں کی تدفین کر کے سحر
ہم اک دوسرے سے جدا ہوگئے
تھا جو کبھی ہمارے درمیاں چاہتوں کا دیا
وہ چاہتوں کا دیا بجھ گیا
چاہتوں کا دیا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






