چلمن خوشبوء کا خیال کر کہ آندھی نہ آئے اتفاق سے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiچلمن خوشبوء کا خیال کر کہ آندھی نہ آئے اتفاق سے
عشق کے انتم میں لوگ اجڑتے ہیں اک مذاق سے
مجھے کچھ کہنے کو وہ صدیوں سے ہونٹ سیئے بیٹھی
غلاظت کے غلام کو کہاں فرصت ملی فراق سے
گرائے تھے غم اپنے وہ آنسو سمجھ کر پیء گئی
کب سے تو پیاسی ہے یہ کس نے پوچھا خاک سے
منظر پر نقش رکھو تو غیب دانی کی ضرورت کیا
بے امتیاز سفر تھا نہیں پوچھنا پڑا اپنے آپ سے
اک امید کی بام پر اُن کو بھٹکاتی رہی سرد ہوائیں
میرے گھر کے دیئے بھی اب ڈرنے لگے ہیں رات سے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






