چھوٹے چھوٹے چراغ
Poet: صالحہ سلیم By: Saleha Saleem , Islamabadدیا اک جلایا تھا میں نے
روشن کیا یادوں کا جہاں
مہکی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا
چہکی تھی کوئل کی لمبی صدا
کے آ پھر سے یوں ہم گم نہ جائیں
یہ وعدے، وفائیں، میری صدائیں
پر مست تھا وہ پہلو کی بل
نہ کیں اس نے کوئی پرکش جفائیں
لے گیا پھر اک دن طوفان کوئل
اب نہیں ہے کوئی جو راگ گائے
کوئی آہ سنائے، نیا ساز لائے
یہی ہے اب تو مراد دل کی
کوئی باغباں آئے ،کوئی گیت گائے
More Sad Poetry






