چھیڑو نہ فسانے محمل کے
Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ, 1e Exloermondچھیڑو نہ فسانے محمل کے اور دارو رسن کی بات کرو
جس رنگ پہ آئی ہے محفل اس طرزّ سِخن کی بات کرو
کیا تیر چلے مظلوموں پر کیا آگ اور خون کی بارش ہے
تم کون تھے اب کیا ہو سارے کچھ دورِ کُہن کی بات کرو
وہ دیکھو آگ کی بارش نے کتنے معصوم جلا ڈالے
جو لِوٹی غیروں نے مِل کر اس دختِ وطن کی بات کرو
تم سوئے ہو تو سوئے رہو اُٹھنے سے غیرت جاگتی ہے
تم چھوڑ دو یہ رونا دوھنا اور سرو و سمن کی بات کرو
وہ دیکھو چھپّن بھائیوں کی بہنوں کو لُوٹا ظالم نے
یا جاؤ جا کر ڈوب مرو یا رنج و محن کی بات کرو
اقبال ترے شاہین آخر پرواز سے تھک کے چُور ہوئے
سب کوہ شکن معدوم ہوئے اب عہد شکن کی بات کرو
امید ترے نوحوں کا اثر اس وقت تو ہونے والا نہیں
پر اک دن دنیا کہہ دے گی اس شعر و سخن کی بات کرو
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






