کاروبار
Poet: مظہر حسین سیّد By: مظہر حسین سیّد, راولپنڈیخدا کا شکر ہے ، اب کام اچھّا چل رہا ہے
جس جگہ ہم لوگ بیٹھے ہیں ، جہاں اب کارخانہ ہے
یہاں دس سال پہلے تک
فقط اک جھونپڑی سی تھی ، بڑا مشکل گزارا تھا
میرا بیٹا تھا یامیں تھا، جو دن بھر اونگھتے اخبار پڑھتے
آمریت تھی ، کہ جس کو گالیاں دیتے ہمارا وقت کٹتا تھا
یہاں اب تیس کاریگر ہیں ، لیکن سر کھجانے کی ہمیں فرصت نہیں ملتی
سنائیں اب یہاں جمہوریت کا راج ہے یا آمریت
"خیر چھوڑیں کام کی کچھ بات کرتے ہیں "
ابھی ہفتہ ہوا باہر سے بھی میں نے مشینیں کچھ منگائی ہیں
مجھے لگتا ہے ، اب شفٹیں لگانا بھی ضروری ہو گیا ہے
کام بڑھتا جا رہا ہے
شکر اس ذات کا اور مہربانی ہے ، حکومت کی
ابھی تو پچھلا آرڈر بھی مکمل ہو نہ پایا تھا ،
کہ پھر کل شام کو ہی ،
"ایک سو پچیس تابوتوں کا آرڈر مِل گیا ہے "
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






