کاش
Poet: Muhammad Naveed Tariq By: Muhammad Naveed Tariq, Chakwalکاش کہ اظہار کر لیتے تو آج رونا نہ پڑتا
ہم نے سوچا تھا کہ بن جائے گے جب ان کے قابل تو کہ دیں گے
کاش کہ اتنا نہ سوچتے تو آج رونا نہ پڑتا
یاد ہے ہم کو ان کا مسکرانا اور چھپ کر انہیں مسکراتے دیکھنا
کاش کہ بے دھڑک ہو جاتے تو آج رونا نہ پڑتا
آج بس انہیں رقیب جاں کے ساتھ تک کر آہیں بھر لیتے ہیں
کاش کہ اتنا نہ آہیں بھرتے تو آج رونا نہ پڑتا
کاش کہ وقت کی تیزی کو جان لیتے تو آج رونا نہ پڑتا
مگر پھر سوچتے ہیں نوید کہ اظہار کر بھی لیتے اور جواب ندارد
رونا تو پھر بھی پڑتا رونا تو پھر بھی پڑتا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






