کاش میرے آنسوؤں کی ہوتی زباں
Poet: Maria RiaZ GhouRi By: Maria Ghouri, HarooNAbadکاش میرے آنسوؤں کی ہوتی زباں
کرتی تجھ سے اس انداز میں محبت بیاں
پھر نا تم جدائی کی بات کرتے
ہوتی اگر تجھ پر یہ حقیقت عیاں
منزل تو نہیں میری دیکھ کیسا رستا لیا میرے دل نے
کاش اس رستے میں ہوتا تجھ تک پہچنے کا نشاں
نا میں جنت کی حور نا میں وقت کی مونالیزا
تیری نظروں کے تفاضوں نے کر دیا مجھے پریشاں
اک لمحے کے لیے جذبوں کی پاکیزکی سے میرے ہو جاو
پھر تصور کرو کتنا پیارا ہوتا اپنا محبت کا جہاں
زمانے کی بات چھوڑو تم جان زمانہ تو ہے بے وفا
لگ رہا ہے مجھے تیری ذات میں بے وفائی کا گماں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






