کب تک لیٹی رہوں کمرے میں
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: AF (Lucky ), K.S.Aکب تک لیٹی رہوں کمرے میں
آخر کمرے سے باہر تو جانا ہے
آج کیوں ہیں پھر لال آنکھیں
اے دل سوچ زرہ
آج سب کو کیا سبیب بتانا ہے
میری روح گھایل ہے
میرا دل رو رہا ہے
پر لکی ! سب کے سامنے تو
خوشی سے مسکرانا ہے
وہ شخص جس کا یہاں
کوئی نام بھی نہ سننا چاہے
کیا مجھے ُاس کے
ہجر میں ہی مر جانا ہے ؟
میری صدا ُاس تک نہیں جاتی
ہاں ہاں ! میری صدا
ُاس تک نہیں جاتی
میرا رب ہیں روٹھا ہوا
نہیں معلوم ُاسے کیسے منانا ہے
ہر روز قیامت گزرتی ہیں مجھ پر
نا چاہیتے ہوئے بھی
خود کو صبر کا پیالہ پلانا ہے
کاش ! ہو جائیں
میری دعایئں بھی قبول
اے خدا ! مجھے ُاس کا
ُاسے میرا بنانا ہے
کب تک لیٹی رہوں کمرے میں
آخر کمرے سے باہر تو جانا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






