کب یہ دلِ ناتواں تیرے غم کی دہائی نہیں دیتا
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadکب یہ دلِ ناتواں تیرے غم کی دہائی نہیں دیتا
یہ اور بات ہے کہ تجھے کچھ بھی سنائی نہیں دیتا
مانا کہ میرا طرزِ بیاں ترجمانی کے نہیں قابل
میراگریہ ء مسلسل بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا
اندھیرے ہیں میرے گرد کہ سیاہی ہے مقدر کی
باوجودِ کوشش ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہیں دیتا
دل ِ مضطرب کا سکوں ہی تو مانگا ہے فقط تجھ سے
میں نے کب کہا تجھ سے کہ مجھے خدائی نہیں دیتا
بے جرم تعزیر سنا کر میرے منصف مجھ سے
پھر یہ گلہ بھی رکھنا ،کہ میں صفائی نہیں دیتا
عجیب دوراہے پہ میری زیست کھڑی ہے
تنہا بھی رکھتا ہے وہ مجھے مگرتنہائی نہیں دیتا
خوب رزم گا ہ ہے عِجزو کِبر کی یہ دنیا تیری
اچھائی کابدلہ کوئی رضا ، اچھائی نہیں دیتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






