کس موڑ زیست پہ کھڑے ہو انتظار کس کا ہے
Poet: Mubashar Islam By: Mubashar Islam, Lahoreکس موڑ زیست پہ کھڑے ہو انتظار کس کا ہے
اس راہ نہ چل میری جاں یہ منزل دشوار ہے
وقت کے تپتے صحرا میں کہں کھو نہ جاؤ تم
تیرے رستے سایہ بھی نہیں نہ دیوار ہے
بادباں نے رخ موڑا ہے کس طرف سفینے کا تیرے
راہ میں ساحل بھی نہیں ڈوب جانے کا آثار ہے
میکدہ میں آ ساقیا مجھے پھر جام پلا ساقیا
آج چاندنی رات ہے ہر کوئی طلب گار ہے
خدا کرے جگمگائے تیرا آفتاب قسمت یونہی
ہاتھ اٹھا کے دعا مانگتے رہے پھر بھی اصرار ہے
ثبوت کیا دوں اپنی محبت کا اپنی وفا کا
ابتدا بھی انتہا بھی یہی میرا پیار ہے
محبت کرنے والے مرتے رہیں گے صدا یونہی
اک شعلہ تھا بھڑک کر بجھ گیا ہمیں اعتبار ہے
اپنی خطا پہ شرمسار ہوں تو مجھے شرمسار نہ کر
میں نے دیکھی ہے ہر آنکھ پر نم مگر خطاوار ہے
اشک رواں میں بارش کی دعا مانگتے ہو اسلام
اجڑ جائے گی بستی شکستہ تیرا در و دیوار ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






