کس کو راس آیا ہے اتنی دیر تک کا جاگنا
Poet: MOHSIN By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIوحشتیں بکھری پڑی ہیں جس طرف بھی جاؤں مَیں
گھوم پھر آیا ہُوں اپنا شہر تیرا گاؤں مَیں
کس کو راس آیا ہے اتنی دیر تک کا جاگنا
وہ جو مل جائے تو اُس کو بھی یہی سمجھاؤٔں مَیں
اب تو آنکھوں میں اُتر آئی ہیں دِل کی وحشتیں
آئینہ دیکھوں تو اپنے آپ سے ڈر جاؤں مَیں
کچھ بتا اے ماتمی راتوں کی دھندلی چاندنی
بھولنے والوں کو آخر کس طرح یاد آؤں مَیں؟
اب کہاں وہ دِل کہ صحرا میں بہلتا ہی نہ تھا
اب تو اپنے گھر کی تنہائی سے بھی گھبراؤں مَیں
یاد کر کے تیرے لوٹ آنے کے وعدوں کی گھڑی
خود کو اِک معصوم بچے کی طرح بہلاؤں مَیں
میرے خوابوں نے تراشا تھا تِرا اُجلا بدن
آ تجھے اب فکر کی پوشاک بھی پہناؤں میں
کس لیے محسنؔ کسی بے مہر کو اپنا کہوں
دِل کے شیشے کو کسی پتّھر سے کیوں ٹکراؤں میں؟
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






