کلیجے کرب سہتے سہتے چھلنی ہو چکے ہیں
Poet: یونس تحسین By: Zaid, Sialkotکلیجے کرب سہتے سہتے چھلنی ہو چکے ہیں
مگر اب کیا کریں ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں
ہمارے سامنے سے عشق و الفت کو اٹھا لے
یہ قصے ہم تک آتے آتے ردی ہو چکے ہیں
ستم اے گردش دوراں کسے دکھڑے سنائیں
دلاسہ دینے والے ہاتھ مٹی ہو چکے ہیں
تو کیا پیاسوں کو پانی بھی پلانے سے گئے ہم
تو کیا یہ مان لیں ہم لوگ کوفی ہو چکے ہیں
ہمارے شہر سے ممکن ہو تو بچ کر گزر جا
ہمارے شہر کے سب لوگ وحشی ہو چکے ہیں
ارے حیرت سے کیا دیکھے ہیں آنکھوں کو ہماری
یہ مشکیزے تو اک مدت سے خالی ہو چکے ہیں
جو موزوں ہیں انہیں قیمت مناسب ہی ملے گی
مگر سستے بکیں گے وہ جو داغی ہو چکے ہیں
ہمارا نام ناموں سے الگ لکھے گی دنیا
کہ ہم تیری محبت میں مثالی ہو چکے ہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






