کم نا ہوئیں
Poet: Omer Ashraf By: Omer Ashraf, Manchesterدل ذرا سی دیر کو سنبھلا مگر پھر رو دیا
تیری یادوں کی رتوں کی بارشیں کم نا ہوئیں
یوں گزرتا ہی گیا ویراں برس تیرے بنا
تجھ سے ملنے کی مگر وہ حسرتیں کم نا ہوئیں
چھوڑ تو آئے تجھے پر یاد ہو اب بھی مجھے
رات بھر سوتا نہیں میں کروٹیں کم نا ہوئیں
ایک مدت اب تو گزری ہے تجھے دیکھے ہوئے
پر یقیں مانو کبھی یہ چاہتیں کم نا ہوئیں
اک مشقت میں ہی گزری ہے میری یہ زندگی
دوڑتا ہی میں رہا پر خواہشیں کم نا ہوئیں
زندگی کی دھوپ کو سایہ کیا اس نے عمر
پھر جدائی کی مگر وہ ساعتں کم نا ہوئیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






