کوئی آہٹ نہیں آتی سرِ دشتِ گُماں جاناں
Poet: Ambreen By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکوئی آہٹ نہیں آتی سرِ دشتِ گُماں جاناں
غُبارِ راہ کو تکتے ہوئیں آنکھیں دھواں جاناں
چمکتا ہے ہمارے نام کا تارا جہاں جاناں
نجانے کس افق کے پار ہے وہ کہکشاں جاناں
مجھے یہ وہم لاحق تھا، در و دالان ہیں میرے
مجھے یہ خوش گمانی تھی، مرا ہے یہ مکاں جاناں
تمہاری گفتگو سنتی رہی دنیا، پہ دم بھر میں
ہماری خوش کلامی بھی بنی اِک داستاں جاناں
مری دہلیز پر صدیوں سے ہے پہرا عذابوں کا
مجھے اِذنِ سفر کب ہے جو کھولوں بادباں جاناں
عجب بے چارگی ہے، ہر طرف ہیں خوف کے پہرے
جہانِ ہست کی وحشت میں ہوں بے سائباں جاناں
قفس کے اُس طرف پہنچے کبھی میری کہانی بھی
اُفق کے پار بھی جائے کبھی میری فغاں جاناں
کبھی مجھ کو پکارو تو مرے اپنے حوالے سے
تمہارے ہاتھ پہ رکھ دوں زمین و آسماں جاناں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






