کوئی زنجير ہو
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکوئی زنجير
آہن کی چاندی کی روايت کی
محبت توڑ سکتی ہے
يہ ايسی ڈھال ہے جس پر
زمانے کی کسیتلوار کا لوہا نہيں چلتا
يہ ايسا شہر ہے جس
ميں کسی آمر کسی سلطان کا سکہ نہيں چلتا
اگر چشم تماشا ميں ذرا سی بھی ملاوٹ ہو
يہ آئينہ نہيں چلتا
يہ ايسی آگ ہے جس ميں
بدن شعلون ميں جلتے ہيں تو روہيں مسکراتی ہيں
يہ وہ سيلاب ہے جس کو
دلوں کی بستياں آواز دے کر خود بلاتی ہيں
يہ جب چاہے کسی بھی خواب کو تعبير مل جائے
جو منظر بُجھ چکے ہيں انکو بھی تنورير مل جائے
دعا جو بے ٹھکانہ تھی اسے تاثير مل جائے
کسی رستے ميں رستہ پوچھتی تقدير مل جائے
محبت روک سکتی ہے سمے کے تيز دھارے کو
کسی جلتے شرارے کو، فنا کے استعارے کو
محبت روک سکتی ہے کسی گِرتے ستارے کو
يہ چکنا چور آئينے کے ريزے جوڑ سکتی ہے
جدھر چاھے يہ باگيں موسموں کی موڑسکتی ہے
کوئی زنجير ہو اس کو محبت توڑ سکتی ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






