کوئی پوچھتا نہیں
Poet: Ishraq Jamal Ashar Chishti By: Ishraq Jamal Ashar Chishti, KARACHIلمحات ڈھل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
ارماں نکل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
تیری نگاہ ناز کے جلوؤں کی آگ سے
دیوانے جل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
زنداں میں ڈال کر وہ بھلا بیٹھے ہیں ہمیں
موسم بدل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
دیدار یار میں ملے سبقت کا بس شرف
ٹوٹے وہ پڑے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
بیمار غم کو تو نے بلایا وہ آگئے
گرتے سنبھل رہے ہی کوئی پوچھتا نہیں
محفل میں ہم کو دیکھ کر ناراض ہوگئے
ہم اب بھی کھَل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
کل کے رئیس آج گدا بن گئے یہاں
ٹکڑوں پہ پل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
کانوں میں آج بھی وہی محسور جلترنگ
رس گھول سے رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
رکھا ہے جن کو دل کی تہوں میں لپیٹ کر
جذبے مچل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
تیری وفاء کی راہ پر اشہر سے بے خبر
کانٹوں پہ چل رہے ہیں کوئی پوچھتا نہیں
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






