کوئی کیسی تڑپ میں رہتا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreکوئی کیسی تڑپ میں رہتا ہے
کوئی کیسی اذیت سہتا ہے
کسی کو کیا معلوم کہ کوئی
کیا کیا صدمے سہتا ہے
ہر کوئی اپنی دھن میں مگن ہے
ہر کوئی اپنی لگن میں مگن ہے
کوئی کیا جانے اس دنیا میں
کس حال میں کوئی رہتا ہے
تم اپنی دنیا میں رہتے ہو
ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں
سب اپنی دنیا میں گم ہیں
یہ سب تو ہوتا رہتا ہے
کہیں آنسو ہیں کہیں آہیں ہیں
کہیں مسرور نگاہیں ہیں
آنا جانا کھونا پانا
ہنسنا رونا تو رہتا ہے
یہ دنیا ہے اس دنیا میں
دنیا داری کے چکر ہیں
دنیا داری کے چکر میں
یہ سب تو ہوتا رہتا ہے
کوئی کیسی تڑپ میں رہتا ہے
کوئی کیسی اذیت سہتا ہے
کسی کو کیا معلوم کہ کوئی
کیا کیا صدمے سہتا ہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






