کچھ خواہشیں ہم پہ روتی ہیں
Poet: Usman Tarar By: Usman Tarar, Hafizabadباتیں ہوتی ہیں سادہ سی
کچھ سمجھیں موٹی ہوتی ہیں
کچھہ غلط فہمیاں ہمارے بیچ
بیج نفرت کے بوتی ہیں
ہم یادوں سے زخم کریدتے ہیں
پھر آنکھیں انکو دھوتی ہیں
وقت کب الٹا چلتا ہے
گئی ساعتیں واپس کب لوٹی ہیں
کچھ خواہشوں پہ ہم روتے ہیں
کچھ خواہشیں ہم پہ روتی ہیں
کچھ فکروں کا بوجھ زیادہ ہے
کچھ عمریں بہت ہی چھوٹی ہیں
کیا انجام کو پہنچے کام کوئی
جب نیتیں سب کی کھوٹی ہیں
عثمان اک عمر کے بعد معلوم ہوا
کٹی پتنگیں کیوں بے بس ہوتی ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







