کھو کے تجھ کو کس قدر ناشاد ہوں
Poet: dr.zahid sheikh By: dr.zahid sheikh, lahore,pakistanاپنی قسمت سے ہے مجھ کو یہ گلہ
تو شریک زندگی نہ ہو سکا
در بدر پھرتا ہوں تیری یاد میں
ایک مدت سے نہیں میں سو سکا
میں نے تجھ کو بھولنا چاہا مگر
بھولنا تجھ کو کہاں آسان ہے
میری دلہن بن کے میرے پاس ہو
آج بھی دل میں یہی ارمان ہے
رات کی تاریکیوں میں جاگ کر
خواب کیسے دیکھتا رہتا ہوں میں
تیرا ملنا میری قسمت میں نہیں
پھر بھی تجھ کو ڈھونڈتا رہتا ہوں میں
تلخیاں ہیں زند گی میں اس قدر
مجھ کو جینے کی نہیں ہے آرزو
کس کے دامن پہ گراؤں آج میں
میری آنکھوں سے جو بہتا ہے لہو
خواب لگتے ہیں رفاقت کے وہ دن
زیست تنہائی کا اب اک بحر ہے
تیرے ہونٹوں کی حلا وت کھو گئی
آج پینے کو مرے بس زہر ہے
آ مری اجڑی ہوئی دنیا کو دیکھ
تو تو ہے آباد میں برباد ہوں
میرے ویرانے میں اب کچھ بھی نہیں
کھو کے تجھ کو کس قدر ناشاد ہوں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






