کہیں چراغ ہیں روشن، کہیں پہ مدھم ہیں
Poet: Wasi Shah By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکہیں چراغ ہیں روشن، کہیں پہ مدھم ہیں
تمہارے آنے کے امکان ہیں، مگر کم ہیں
میں لوٹتے ہوئے چپکے سے چھوڑ آیا تھا
تمہارے تکیے پہ میرے ہزار موسم ہیں
تمہارے پاؤں کو چھو کر زمانہ جیت لیا
تمہارے پاؤں نہیں ہیں، یہ ایک عالم ہیں
محبتیں ہوئیں تقسیم تو یہ بھید کھلا
ہمارے حصے میں خوشیاں نہیں ہیں، ماتم ہیں
کچھ اس لیے بھی ہمیں دکھ سے ڈر نہیں لگتا
ہماری ڈھال ترے درد ہیں، ترے غم ہیں
ابھی کہو، تو ابھی، یہ بھی تم کو دے دیں گے
ہمارے پاس جو گنتی کے ایک دو دم ہیں
ابھی کھلیں گے بھلا کیسے کائنات کے راز
تری کمر میں کئی موڑ ہیں، کئی خم ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






