کیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
Poet: رشید حسرتؔ By: رشید حسرتؔ, کوئٹہکیا بتائیں دوستو دُنیا نے توڑا کِس طرح
ریشۂِ اُمِید سے پِھر دِل کو جوڑا کِس طرح
تُم نے ماضی کو کُریدا ہے تو پِھر اِتنا کہو
زخم ہو گا مُندمِل، جائے گا پھوڑا کِس طرح؟؟
تُم نے تو حد کر ہی دی ہے ظُلم و اِستبداد کی
اِک ذرا سی بات پر دِل کو نِچوڑا کِس طرح
اپنے اپنے ظرف کی ہے بات شِکوہ کیا کریں
ہم نے پایا کِس طرح اور تُم نے چھوڑا کِس طرح
اِک تُمہارے ہِجر کی شب ہے، گُزرتی ہی نہِیں
دوڑتا ہے وصل میں لمحوں کا گھوڑا کِس طرح
کاش دِل میں نرم گوشہ رکھ کے یہ پُوچھے کوئی
وقت، زادہ کِس طرح گُزرا ہے، تھوڑا کِس طرح؟؟
اُس کی نظروں کے مُقابِل جم کے رہنا ہے مُحال
اور سمجھوتہ کرے گا دِل نِگوڑا کِس طرح
ایک طُوفاں بڑھ رہا تھا پریم نگری کی طرف
کیا بتائیں رُخ ہوا کا ہم نے موڑا کِس طرح
قُرب کو ہم نے تُمہارے جان سے رکھا عزِیز
پِھر بھی حسرتؔ بِیچ میں آیا وِچھوڑا کِس طرح
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






