کیا ہوا بڑے دِن ہوئے میرے قلم کا شکار نہیں ہوئے
Poet: majassaf imran By: majassaf imran, gujratکیا ہوا بڑے دِن ہوئے میرے قلم کا شکار نہیں ہوئے
لگتا ہے جیسےتم رَونقِ دنیا سے بےزار نہیں یوئے
تیری ہراک سِسکی میرےدل پہ آہ کھِسکی پرتجھےاس کی خبرکہاں
تم مانویانہ مانواپنی چاہت کےقابِل پرتیری چاہت میں ہم فنکارنہیں ہوئے
یہ دل میں لگی آگ ہےجُواُگلتی ہےلفظوں کی صورت میں شُعلے
ورنہ یہ بات بھی سَچ ہے ہم کوئی خاندانی قلم نگار نہیں ہوئے
ہم انمول موتی تھے تونے پتھر سمجھ کےتراشہ پھر چھوڑدیا
اپنی بھی ذارا دیکھو ہم آج بھی تیری چاہت میں دو چار نہیں ہوئے
تیری پَل پَل کی جُدائی مُجھےکچھ نہ کچھ سیکھاتی رہی یقین جانو
تیری عنایت ہےآج شاعر ہیں کِسی بےکارکی مَجلس کےنمبردارنہیں ہوئے
تو آنکھوں سےدور ہےمان لیا ہم نے پردل سے دور نہیں تو میرےمجسف
تو نہیں مِلاتوکیاپہلے بھی لوگ کامیابیِ عِشق سے ہمکنار نہیں ہوئے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






