کیو ں میرا وطن زخموں سے چُور ہے

Poet: Muhammad Saleem qadri By: Muhammad Saleem qadri, Karachi

سنا ہے عوام یہاں کی بہت غیور ہے
پھر کیو ں میرا وطن زخموں سے چُور ہے

قدرت کی ہر نعمت سے یہ مالامال ہے
لوگوں میں ہے دوریاں ،دشمن کی چال ہے

کہتا ہے ہر کوئی وہ اپنے فرض پہ مامور ہے
پھر کیو ں میرا وطن زخموں سے چُور ہے

رہبر ہمارے رہزن کا روپ دھار کر
جی رہے ہیں خودی پے، شب خون مار کر

اعلان ہے ہر خطہ مسرت سے بھرپور ہے
پھر کیو ں میرا وطن زخموں سے چُور ہے

ننگے ہیں سر،بھوک سے بچے ہیں بے قرار
پھولے نہیں سماتے ارباب اختیار

ایوانوں میں ہر طرف، چراغاں ہے نور ہے
پھر کیو ں میرا وطن زخموں سے چُور ہے

ہر روز اک نیا قہر ٹوٹ رہا ہے
دامن آس کا ہاتھوں سے چھوٹ رہا ہے

دلوں میں ہے کینہ، ذہنوں میں فتور ہے
سلیم اس لئے میرا وطن زخموں سے چُور ہے

Rate it:
Views: 632
17 May, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL