کیوں مجھے تنہا چھوڑ کر جاتے رہے
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaتم پاس رہ کر بھی دور رہے
گناہ کر کے بھی بے قصور رہے
مرضی سے آتے رہے
مرضی سے جاتے رہے
مگر جب کبھی ہم نے
بلایا تو ہمیشہ مصروف رہے
عید کے چاند کی طرح ہمیں
رخ دیکھانے کہ لیے ترساتے رہے
اور کبھی ہمیں پتھر سمجھ کر
ٹھوکر لگاتے رہے
ہماری محبت پے ہمیں
اور آزماتے رہے
یوں تو لکھے بہت
وعدے تم نے مگر
ہر موڑ پے اپنے
وعدے مٹاتے رہے
جاناں ! یہ میری زندگی تھی
جسے تم کھولنا سمجھے لگئے
کبھی اوپر سے نیچے
گراتے رہے اور کھبی
آسمان پے بٹھاتے رہے
تمہیں میں بےوفا لکھوں
یا پھر باوفا لکھوں
جبکہ تم تو مجھے اپنے
ہزاروں رنگ یکھاتے رہے
جبکہ جان گئے تھے تم بھی
کہ تمہارے ساتھ سے ہی
زندہ ہوں میں پھر کیوں
مجھے تنہا چھوڑ کر جاتے رہے
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






