کیوں محسوس ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ١
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیوں محسوس ہوتا ہے
کہ وہ اب ملنے کی دعاؤں کرتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ وہ اب آئہیں بھر کے صدائیں دیتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ اب وہ آئیہ نہیں دیکھتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
وہ خفا ہیں مگر پیار کرتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
وہ سارا دن مضبوط مگر
رات کے پچھلے پہر بکھر جاتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ وہ اب راتوں کو نہیں سوتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ وہ یاد کر کے تنہائی میں روتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ وہ اب لبوں پے ہنسی نہیں لاتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ اب وہ محفلوں میں نہیں جاتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ اب وہ کسی کو اپنا نہیں کہتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ وہ اپنی باتوں پے شرمندہ ہوتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ اب وہ میری تصویر سے بھی نظر نہیں ملاتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
کہ اب وہ آسمان کو نہیں دیکھتا ہے
کیوں محسوس ہوتا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






