گلشن نہ سہی میرے لیے ،بیاباں تو نہ ہو
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadنالاں بھلے ہو مجھ سے، گریزاں تو نہ ہو
گلشن نہ سہی میرے لیے ،بیاباں تو نہ ہو
ہر چند خطا مجھ سے کہیں کوئی تو ہوئی ہو
یوں نیت پہ مگر میری ،بدگماں تو نہ ہو
فرطِ شوق میں غمِ دنیا کی طرح مجھ سے
اےحسرت ِ دل، دست و گریباں تو نہ ہو
سبھی عارضے ہی عارضی ہیں مسیحا میرے
اپنی ہی عنایات پہ ، نوحہ کناں تو نہ ہو
ماناہے کہ دل شکستہ ہو دل وحشی مگر
روزِ محشر تو نہ ہو ،شبِ امتحاں تو نہ ہو
اےحال ِ دل ، دل میں ہی رہ تو اچھا ہے
آنکھوں میں اُتر کر ،دنیا پہ عیاں تو نہ ہو
پروانہ جلے نہ ، تو کرےبھی اور کیا
اے جمالِ دل فروز ،یوں حیراں تو نہ ہو
بن ہی گئے ہواگر میری آنکھ کی زینت
پلکوں پہ ہی تھم جاو ، اشکِ رواں تو نہ ہو
تُو کسی اور کا نورِ نظر ہے رضا تو
بربادی ءدل ِ ناداں کا ساماں تو نہ ہو
تھا کس نےکہا تجھ سے،بھنور میں اترو
اب یہ گریہ تو نہ کر ، پشیماں تو نہ ہو
ڈالی ہے مشکل سے اذیت کی خو ُ میں نے
زندگی روش نہ بدلو، مجھ پہ آساں تو نہ ہو
بے حساب باقی ہیں نشیب و فراز ابھی
ابتدائے عشق میں ہی نِیم جاں تو نہ ہو
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






