گلے سے میرے لگ جاتا تو اسکا کیا بگڑ جاتا؟
Poet: Abdul Waheed Sajid By: Abdul Waheed Ghori, Dunya Pur, District Lodhranگلے سے میرے لگ جاتا تو اسکا کیا بگڑ جاتا
میری جانب چلا آتا تو اسکا کیا بگڑ جاتا
وہ جس کے پیار کی خاطر توڑے تھے سبھی رشتے
نہ مجھ سے توڑتا ناطہ تو اس کا کیا بگڑ جاتا
مجھے تھی کیا خبر یارو وہ مرتا ہے رقیبوں پر
اگر یہ مجھ کو سمجھاتا تو اس کا کیا بگڑ جاتا
لوگوں سے جو کہتا تھا محبت جان لیوا ہے
مجھے آ کر وہ بتلاتا تو اس کا کیا بگڑ جاتا
مجھے معلوم ہے کہ لوٹ کر ماضی نہیں آتا
کوئی قصہ ہی دہراتا تو اس کا کیا بگڑ جاتا
اسے میں کب یہ کہتا تھا کہ میرے نام ہو جائے
وہ میرادل ہی بہلاتا تو اس کا کیا بگڑ جاتا
ارے ساجد ارے پاگل مجھے دل سے بھلا بھی دے
فقط مجھ سے یہ کہہ پاتا تو اس کا کیا بگڑ جاتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






