ںیچ دی گئی
Poet: Rasheed Hasrat By: Raheed Haarat, Quettaجاری تھا رقصِ حرص سخا بیچ دی گئی
ہونٹوں کی پر خلوص دعا بیچ دی گئی
دیکھو تو ان کا جُود، وفا جیسی چیز بھی
کیا بیچنی تھی بہرِ خدا بیچ دی گئی
وہ دور، دور تھا کہ رہیں کج ادائیاں
عشوے اجاڑ ڈالے ادا بیچ دی گئی
مت پوچھ طائرانِ چمن کی اداسیاں
گلشن ہے سوگوار، صبا بیچ دی گئی
اک تھی انا کہ تن کو ترے ڈھانپتی رہی
مجبوریوں کے ہاتھ وہ کیا بیچ دی گئی؟
چاہے گی کون ماں کہ رہے بے ردا بھلا
بھرنا تھا پیٹ، جب تو ردا بیچ دی گئی
قہرِ خدا سے کم کا کہاں تھا معاملہ
بیٹی جو کر کے ماں سے جدا بیچ دی گئی
فرعونؔ نیلؔ پار اترنے کو آ گیا
تِیرہ ہے دستِ بیضہؔ، عصاؔ بیچ دی گئی
حسرتؔ گرانیوں نے تو اسباب کھا لیئے
باقی جو تن پہ تھی وہ قبا بیچ دی گئی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






