ہاتھوں میں خنجر لیے رات پھر بھڑ رہی ہیں میری طرف
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہاتھوں میں خنجر لیے رات پھر بھڑ رہی ہیں میری طرف
یوں تنہا ہمیں دیکھنے کا ارمان کس کا تھا
انتظار شمع جل جل کر کہیں راکھ نہ ہو جائے
سوچتی ہوں آنے کا عہدو پمیان کس کا تھا
تیرے لہجے میں بدلہ پن کیوں محسوس ہوتا ہیں
میرے ہوتے ہوئے بھی تیری آنکھوں میں خمار کس کا تھا
کیسا جنوں لیے پھرتا ہیں مجھے در بے در زمانے میں
اختمام سفر پے ملنا انعام کس کا تھا
مددتوں کی پیاس بھجانے کے لیے دیکھا تھا
رخ موڑ کر وہ چل دیے ۔ غیروں سا انداز کس کا تھا
دیوار پے گھڑی کو دیکھ کر کیا لگاؤ گے وقت کا اندازہ
جب آیا ُبرا وقت تو معیسر نا ساتھ کس کا تھا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






