ہاں مجھ کو تم سے محبت ہے
Poet: Sadeed Masood By: Sadeed Masood , Newzeland Aucklandچلو بھول جائیں اس کہانی کو
جس کہانی میں کچھ لمحے ہیں
ان لمحوں میں کچھ زمانے ہیں
ان زمانوں میں کچھ فسانے ہیں
وہ فسانے ہیں بے وفائی کے
اپنے پیاروں کی کج ادائی کے
ایسی باتوں کو یاد رکھنا کیا
ایسی یادوں کے ساتھ چلنا کیا
چلو بھول جائیں اس کہانی کو
جس کہانی کے سارے موڑوں پر
کچھ دم توڑتی ہوئی تمنائیں
کچھ حسرتوں کے لاشے ہیں
کچھ سپنے ہیں اجڑے موسم کے
کچھ چرچے بہار رفتاں کے
ایسی باتوں کا ذکر کرنا کیا
رونا رونا اور رات بھر رونا
چلو بھول جائیں اس کہانی کو
وہ کہانی جو نا مکمل ہے
نا مکمل سی اس کہانی میں
ایک لفظ مگر مکمل ہے
وہ لفظ جو میں نے سیکھا تھا
وہ لفظ جو میں نے سوچا تھا
وہ لفظ جو اس نے بولا تھا
وہ لفظ جو دل کی دولت ہے
ہاں مجھ کو تم سے محبت ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







