ہاں یہ سچ ہے
Poet: maria ghouri By: maria ghouri, haroonabadہاں یہ سچ ہے بعد تمہارے
مرے شب و روز اداسیوں
کی زد میں ہیں
مری آنکھوں کی آنگن میں ہر وقت مون سون
کا موسم برقرار رہتا ہے
جاناں تیری جدائی کے
یہ گذرتے پل مجھے مار ڈالیں گے
میں کوئی بھی خوشنما
نظارہ دیکھوں
آنکھیں مری بھیگ جاتی ہیں
میں کوئی بھی زندہ دلی
کی تحریر پڑھوں
دل مرا مر جاتا ہے
بن تیرے میں ایسی رات
ہوں جسکا کوئی سویرا نہی
شب و روز کا کوئی لمحہ رہا
اب مرا نہی
ہر وقت تیرے انتظار کی
سوچ میں آنکھیں بچھائے
بیٹھی ہوں
ہر گھڑی تجھے دیکھنے
کی آس میں اک دیا جلائے بیٹھی ہوں
لیکن ہاں یہ سچ ہے
تم نہ آؤ گے
لیکن ہاں یہ سچ ہے مرا انتظار بھی ختم نہ ہو پائے گا
لیکن ہاں جلتے دیئے کی
طرح اک دن میں جل جل کر مدھم پڑ جاؤں گی
اور پھر حالات کی تیز
آدھی سے ہمیشہ کے لیے بجھ جاؤں گی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






