ہجر غم و ملال میرا ہے
Poet: By: AB shahzad, Mailsiہجر غم و ملال میرا ہے
پیار تو بے مثال میرا ہے
کر دو واپس یہ مال میرا ہے
جو پڑا ہے یہ جال میرا ہے
دیکھ کر رو پری ہے ماں میری
آ گیا آج لال میرا ہے
چھوڑ کے جب سے تم گئے ہومجھے
تب سے جینا محال میرا ہے
تم نے تو ہے بھلا دیا مجھ کو
اب برا تو یہ حال میرا ہے
زیست غربت میں بسر ہو رہی ہے
جو ہوا ہے کمال میرا ہے
کام کوئی نہیں ہے مشقت کا
جسم سارا نڈھال میرا ہے
تم نے من مانی اپنی ہی کر لی
نہ رکھا کچھ خیال میرا ہے
بیت جائے گا اب یہ مشکل سے
تو بھی تو ہم خیال میرا ہے
جیسے تیسے گزار لوں گا میں
آنے والا تو سال میرا ہے
تیرے رنگ میں گیا ہے جو یہ ڈھل
حسن تیرا جمال میرا ہے
دوستی کا اثر ہے دو نوں میں
رعب تیرا جلال میرا ہے
کب تلک تم رلائو گے ہم کو
آج تم سے سوال میرا ہے
کردو شہزاد اب تو واپس تم
پاس تیرے جو مال میرا ہے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






