ہجر کی وحشتیں اگر آنکھوں میں اُتر جائیگی
Poet: ارسلان حُسینؔ By: Arsalan Hussain, Karachiہجر کی وحشتیں اگر آنکھوں میں اُتر جائیگی
تو خوابیں حسرت لیئے آنکھوں سے کدھر جائیگی
جتنی خواہش کو جِلاَ بخشی ہے تُو نے دل میں
دورانِ ہجر تڑپتے ہوئے مر جائیگی
پِروئ ہیں تیری ذات میں خوشیاں اپنی
تُو جو بچھڑے گا تو پھر یہ بھی بکھر جائیگی
تم مجھے بھول بھی جاؤ مگر میری یادیں
تمھارے خیالوں کے محور میں ٹھر جائیگی
آؤ ساتھ چلتے ہیں جہاں تک بھی اب ممکن ہے
پھر الوداع کہہ کر یہ راہیں بچھڑ جائیگی
اُتر جانے دو اپنا عکس میری آنکھوں میں
یہ تمھیں ڈھوڈنے اب خواب نگر جائیگی
رقص کرتی تھی اِک آواز کی سرگم جن میں
وہ سماعتیں خاموشی کی گُونج سے ڈر جائیگی
تمھارے بعد ایک رسوائ ہاتھ تھامے گی
پھر اُدھر جاؤنگا میں بھی وہ جدھر جائیگی
وہ جو خدشات تھے آغازِ سفر سے مجھکو
اب وہ شاید حقیقت میں اُبھر جائیگی
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






