ہر طرف لٹکے ہوۓ چہروں پہ کتبے دِیکھنا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKہر طرف لٹکے ہوۓ چہروں پہ کتبے دِیکھنا
میری قسمت آندھیوں کے صرف رستے دیکھنا
جنِ کی خاطر بن گیا ہے میرا چہرہ اِشتہار
پوُرے کب ہوں قربتوں کے وہ تقاضے دیکھنا
پھول بن کر راستے میں آپ کے بچھ جاؤں گی
ایک دن میری گلی سے بھی گذر کے دیکھنا
ہر طرف پھیلے گی اب خوشبو مرِے افکار کی
چار سوُ ہوں گے مِرے خوابوں کے چرچے دیکھنا
آندھیاں جب ہر طرف محشر بپا کر جائیں گی
چار سوُ تن جائیں گے ہجرت کے خیمے دیکھنا
کھل گئے ہیں کس قدر پھر اس میں بابِ آرزو
شہرِ دِل کے بھی ذرا رک کے خرابے دیکھنا
بھسم ہی کر کے ہی رہیں گےمیرے جسم و جان کو
اِک نہ اِک دِن یہ ترِے لفظوں کے شعلے دیکھنا
کون دیکھے گا تِری نظروں سے عذرا نازؔ کو
ایک اِک کر کے بدل جائیں گے چہرے دیکھنا
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






